Fatwa No. #64 Jild No # 01
مسئلہ نمبر64
بحضور جانشین مفتی اعظم علامہ ازہری صاحب قبلہ ! ہدیہ سلام و رحمت ۔
مندرجہ ذیل سوالات حاضر ہیں جوابات مدلل مطلوب ہیں حوالۂ کتاب کے ساتھ اگر ممکن ہو تو صفحہ نمبر بھی تحریر کر دیا جائے ان مسائل میں سے کسی خاص مسئلہ پر اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی کوئی تصنیف ہو تو اس کا نام بھی تحریر فرمائیں۔
(1)
تفسیر نعیمی جلد اول ( مصنف مولانا مفتی احمد یار خاں علیہ الرحمہ ) زیر آیت ﴿إِنَّ الله عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ) قول متکلمین مقدور العبد مقدور اللہ درج ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟
(۲)
بہار شریعت ، ۱٤/۷ پر نماز اشراق کی حدیث پاک ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بعد جماعت فجر ذکر خدا میں لگا رہے یہاں تک کہ آفتاب بلند ہو جائے تب نماز اشراق ادا کرے۔ بعض مساجد اہل سنت میں بعد جماعت فجر فوراً صلوۃ وسلام ہوتا ہے اس میں شرکت کے بعد کیا ثواب نماز اشراق سے محروم ہو جائے گا؟ اور کیا اس صورت میں حدیث پاک پر عمل ہو سکے گا؟
(۳)
"ستر" کے سلسلے میں وضاحت فرمائیں کہ کتنی فرض ہے، کتنی واجب اور کتنی سنت ؟ مردو عورت میں اس بارے میں کیا فرق ہے؟ نماز اور بیرون نماز کا کیا حکم ہے؟۔
(٤)
بہار شریعت ، جز ۵، ص ٥٤ پر حدیث پاک کہ جو بھوکا محتاج لوگوں سے پوشیدہ کرکے خدا سے سائل ہو، خدا پر حق ہے کہ وہ ایک سال کی روزی اس پر کشادہ کرے حالانکہ فقہی جزئیہ ہے کہ لاحق للمخلوق على الخالق" تطبیق کی کیا صورت ہے؟
(۵)
اندرون مسجد اذان مکروہ تحریمی ہونے کی کیا وجہ ہے؟
(۶)
انوار الحديث ( مصنف مولانا مفتی جلال الدین احمد امجدی) میں قربانی کے مسئلہ میں صاحب نصاب کی تعریف میں سونا، چاندی، سامان تجارت ، سامان غیر تجارت کی قید لگی ہے، تو کیا نقد کی شکل میں صاحب نصاب نہیں ہوگا ؟ ساتھ ہی سامان غیر تجارت کا مفہوم بھی واضح کریں۔
(۷)
تہجد کے لئے اذان کہنی اور اس کی جماعت قائم کرنی کیسی ہے؟
(۸)
ذبیحہ گاؤ، بکری، مرغ کے کن کن اعضاء کا کھانا جائز نہیں؟
(۹)
وجوب زکوۃ کے لئے بلوغ شرط ہے پھر نا بالغ صاحب نصاب پر فطرہ کیوں واجب ہے؟ کیا فطرہ زکوۃ کی ایک شکل نہیں ہے؟
المستفتی: مبین الهدی نورانی خطیب باری مسجد ، آزاد نگر ، جمشید پور
الجوابـ (1) مطلب یہ ہے کہ بندے کے افعال کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ قال تعالیٰ:
خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ
سوره صفت - ٩٦
بندہ اپنے افعال کا خالق نہیں ۔ البتہ اسے قدرت کاسبہ عطا ہوئی جس کے ذریعہ وہ اپنے جوارح سے افعال و اقوال کا کسب کرتا ہے اور یہ قدرت کاسبہ جبکہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہے تو بالضرورة مخلوق ہے تو اس کے ذریعہ جو افعال بندے سے ظاہر ہوتے ہیں بلا شبہ وہ بھی مخلوق باری تعالی ہیں۔ اسی لئے کہتےہیں :
ان مقدور العبد مقدور الله
فيض القدير شرح جامع صغير ج ۲، ص ۱۹۵ حرف الهمزه مطبع دار الكتب العلمية بيروت
اور خلق اور انتصاف باہم متساوی نہیں بلکہ متغایر ہیں تو وہابیہ کا اس کلیہ سے اللہ تعالی کے کذب پر دلیل لانا جہل عظیم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔
(۲)
نہیں کہ صلوٰۃ و سلام بھی ذکر الہی ہے۔ حدیث قدسی میں ہے: جعلتك ذكراً من ذكرى فمن ذكرك ذكرني واللہ تعالیٰ اعلم ۔
(الشفا بتعريف حقوق المصطفى، ج ۱، ص ٢٤ ، القسم الاول, الفصل الأول فيما جاء من ذلك مجئ المدح والثناء مطبع المكتبة
العصرية بيروت)
(۳)
تفصیل مطلوب میری نظر سے نہ گزری۔ البتہ رد المحتار وغیرہ میں ایک جزئیہ نظر سے گزرا جس کا حاصل ہے کہ زانو کھولنے والے کو بہ نرمی منع کرے اور ضد کرے تو اسے ڈانٹے اور ران کھولنے کو بہ سختی روکے اور شرمگاہ کھولنے والے کو مارے۔
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق ج ۷، ص ٤١ ، كتاب الكراهية ، فصل في النظر والمس مطبع زكريا بکڈپو
جس سے زانو کا ستر واجب ہونا معلوم ہوتا ہے اور زانو سے شرمگاہ تک کا ستر فرض اور زانو سے نیچے انصاف ساقین تک ستر مسنون و مندوب اور یہ اس لئے کہ حدیث میں آیا کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا ازار کریم انصاف ساقین تک ہوتا تھا۔
(المسند الجامع حديث نمبر ٩٦٠٢ ، فتح الباری شرح بخاری ، ج ۱۰، ص ٣٢٥ كتاب اللباس مطبع دار الفيح، دمشق)
اور آزاد عورت کا کل بدن عورت ہے سوائے چہرہ اور ہتھلیوں کے اور پاؤں کے ۔ مگر فساد زمانہ کے سبب اسے غیر محارم سے چہرہ چھپانا لازم ہے۔ در مختار میں ہے:
واما في زماننا فمنع من الشابة "
الدر المختار، ج ۹، ص ٥٣٢ ، كتاب الحظر والاباحة، دار الكتب العلمية، بيروت)
اور باندی کا پیٹ پیٹھ اور ناف سے زانو تک عورت ہے۔ عورت کو نماز میں ایک قول معتمد پر پاؤں چھپانا فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔
(٤)
فی الواقع اس پر کسی کا حق نہیں مگر محض کرم سے اپنے بندوں کے لئے جو وعدہ فرمالے گا وہ ضرور پورا ہوگا۔ قال تعالیٰ:
إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ
(سورۂ آل عمران ـ٩)
رد المحتار میں ہے:
قوله لانه لاحق للخلق على الخالق، قد يقال انه لاحق لهم وجوبا على الله تعالي لكن الله سبحانه وتعالى جعل لهم حقا من فضله او يراد بالحق الحرمة والعظمة فيكون من باب الوسیلة
-الخ" رد المحتار، ج ۹، ص ٥٦٩، كتاب الحظر والاباحة، فصل في البيع، دار الكتب العلمية، بيروت)
اور وہاں زیادہ تفصیل ہے اور حدیث آحاد میں وارد ہے ایک روایت میں ہے: "اللهم اني اسئلك بحق السائلين عليك واسئلك بحق ممشاي هذا " الحديث " ۔ واللہ تعالی اعلم۔
(سنن ابن ماجه کتاب المساجد والجماعات باب المشى الى الصلوة ص ٥٦ مطبع تهانوي
(۵)
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور خلفائے راشدین و تابعین عظام و جمله سلف کرام بلکہ ہر زمانہ میں اذان بیرون مسجد حدود مسجد میں ہوئی اور کبھی منقول نہ ہوا کہ کسی مقتدائے دین نے کبھی کوئی اذان اندر کہی یا کہلوائی ہو اسی لئے تمام علماء بیک زبان اذان واقامت کا محل جدا گانہ بتاتے ہیں ۔ ہدایہ وغیرہ عامۂ کتب میں ہے:
"والمكان في مسألتنا مختلف"
(هدایه، ج ۱، ص ۸۹، کتاب الصلاة، باب الاذان، مجلس برکات، مبارکپور)
فتح القدیر کے تحت ہے :
يفيد كون المعهود اختلاف مكانهما وهو كذالك شرعاً والاقامة في المسجد ولا بد واما الاذان فعلى المئذنة فان لم يكن ففى فناء المسجد وقالوا لا يؤذن في المسجد
(فتح القدير، كتاب الصلوة، باب الاذان، ص ٢٥٠ ، مطبع برکات رضاپور بندر گجرات)
تو اذان بیرون مسجد حدود مسجد میں ہونا سنت نبویہ طریقہ جملہ مسلمین ہے اور طریقہ مسلمین کی اتباع ضرور۔
در مختار میں ہے:
"لان المسلمين توارثوه فوجب اتباعهم"
(الدر المختار، ج ۳، ص ٦٥، كتاب الصلوة باب العيدين، دار الكتب العلمية، بيروت)
پھر ایسی سنت نبویہ جس کو ہمارے نبی علیہ السلام نے کبھی ترک نہ کیا ہو، واجب کا حکم رکھتی ہے کہ عدم ترک دلیل وجوب ہے۔
کما صرح بہ فی فتح القدیر۔
(شرح فتح القدير ج ١ ، ص ٢٤٣ باب الاذان مطبع برکات رضا پور بندر گجرات)
اور واجب کا ترک مکروہ تحریمی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔
(1)
نقدی اگر نصاب کی قیمت بھر ہو تو اس کے مالک پر بھی قربانی واجب ہوگی اور سامان غیر تجارت جیسے زمین ۔ واللہ تعالی اعلم۔
(۷)
نہ چاہئے۔ واللہ تعالی اعلم ۔
(۸)
بائیس اعضاء ہیں جن کی تفصیل نقل فتوی منسلکہ میں ملاحظہ ہوں۔ واللہ تعالی اعلم۔
(۹)
نا بالغ پر اس کے حال میں کچھ واجب نہیں البتہ بالغ صاحب نصاب پر اور اس کی اپنی نا بالغ اولاد کی طرف سے فطرہ دینا لازم ہے۔
والله تعالى أعلمکتبــــــه:
فقیر محمد اختر رضا خان از هری قادری غفر له
[فتاویٰ تاج الشریعہ ، ج: ۱، ص:۲۳۰، مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی]
نوٹـ: فائل ڈاؤنلوڈ ہونے کے بعد بعض اوقات براہِ راست نہیں کھلتی ہے ۔ اگر ایسا ہو توبراہِ کرم اپنے موبائل یا کمپیوٹر کے "Downloads" فولڈر میں جا کر فائل کو کھولیں۔
