یا محمد کہہ کر حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو پکارنا منع ہے


Fatwa No. #81       Jild No # 01

81 مسئلہ نمبر

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: نام نامی اسم گرامی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ندا یعنی یا محمد کہنا جائز ہے یا نہیں؟ 

میں نے بریلی سے شائع ہونے والا رسالہ ”نوری کرن میں پڑھا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک کو ندا کے ساتھ پکارنا جائز نہیں؟ کہ پروردگار عالم نے قرآن شریف میں کہیں بھی حضور کو نام لے کر نہیں پکارا۔ اس لیئے یا رسول اللہ یا نبی اللہ کہ کر پکارنا چاہیے ( میرے پاس رسالہ موجود نہیں ہے ورنہ حوالہ بھی دیتا ) ۔ جبکہ امام بخاری ادب میں اور امام ابن نسائی" عمل اليوم والليلة“ میں راوی کہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا پاؤں سوج گیا تو ان سے کہا گیا آپ کے نزدیک جو محبوب تر ہوا اسے یاد فرمائیں بس انہوں نے حضور کو یاد فرمایا یا محمداہ کانعرہ لگایا پاؤں اچھا ہو گیا۔ (اصلاح بہشتی زیورص: ۲۲۰ تا ٢٤) برائے کرم صحیح مسئلہ سے واقف کرانے کے مہربانی کریں۔

المستفتی: سید یونس صاحب


بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الجوابـ صحیح یہی ہے کہ حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے نام نامی سے پکارنا منع ہے قرآن عظیم فرماتا ہے :

لَا تَجْعَلُوا دُعَاءِ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاء بَعْضِكُم بَعضا

سورہ نور - آیت ٦٣

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پکارنا ایسانہ بنا دو جیسا کہ ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ صحابۂ کرام سے مروی ہوا کہ ہم یا محمد کہتے تھے یہ آیت اتری تو ہم یا رسول اللہ کہنے لگے اسی لئے علماء فرماتے ہیں کہ روایت میں جہاں یا محمد وارد ہے وہاں یا رسول اللہ کہا جائے یہی بہتر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم زیر آیت کریمہ مذکورہ صاوی میں ہے :

: أی نداءه بمعنى لا تنادوه باسمه فتقولوا يا محمد ولا بكنيته فتقولوا يا أبالقاسم بل نادوه و خاطبوه بالتعظيم والتكريم والتوقير بأن تقولوا يا رسول الله يا امام المرسلين يا رسول رب العالمين يا خاتم النبيين وغير ذلك واستفيد من الآية أنه لا يجوز نداء النبي بغير ما يفيد التعظيم لا في حياته ولا بعد وفاته فبهذا يعلم أن من استخف بجنابه صلى الله تعالى عليه وسلم، فهو كافر ملعون في الدنيا والآخرة۔

حاشية الصاوى، ج ۳، ص ٥٤ ، تحت سورۂ نور ، مطبع دار الكتب العلميه، بيروت

والله تعالى أعلم
کتبــــــه:

فقیر محمد اختر رضا خان از هری قادری غفر له

[فتاویٰ تاج الشریعہ ، ج: ۱، ص:۲۵۱،۲۵۲٠، مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی]

نوٹـ: فائل ڈاؤنلوڈ ہونے کے بعد بعض اوقات براہِ راست نہیں کھلتی ہے ۔ اگر ایسا ہو توبراہِ کرم اپنے موبائل یا کمپیوٹر کے "Downloads" فولڈر میں جا کر فائل کو کھولیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں