لفظ میاں کا اطلاق ذات باری تعالیٰ کے لیے جائز نہیں


Fatwa No. #86       Jild No # 01

مسئلہ نمبر86

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: میاں لفظ کیسا ہے؟ 

اللہ میاں بولنا یا لکھنا از روئے شریعت کیا حکم رکھتا ہے؟ معتبر کتب سے حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں ۔ 

احسان و کرم ہوگا ۔ فقط ۔ والسلام ۔

المستفتی: ماسٹر محمد شوکت فہمی چمکا پارہ، پوسٹ کیمری ویل ، رام گانگ پوری (بہار)


بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الجوابـ لفظ میاں چھوٹے کے لئے بھی مستعمل ہوتا ہے اور بعض قوموں کو بھی میاں کہا جاتا ہے۔ لہذا اس کا اطلاق ذات باری تعالی پر جائز نہیں۔

والله تعالى أعلم
کتبــــــه:

فقیر محمد اختر رضا خان از هری قادری غفر له

صبح الجواب ۔ لفظ میاں کے معنی شوہر کے آتے ہیں، اس لئے میاں بیوی کہتے ہیں اور ایک معنی دیوث کے ہیں، یہ دونوں معنی باری تعالیٰ کے لئے محال ہے، اس لفظ کا اطلاق باری تعالیٰ کے لئے جائز نہیں۔

والمولی تعالی اعلم ۔

[فتاویٰ تاج الشریعہ ، ج: ۱، ص:۲۴۸، مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی]

نوٹـ: فائل ڈاؤنلوڈ ہونے کے بعد بعض اوقات براہِ راست نہیں کھلتی ہے ۔ اگر ایسا ہو توبراہِ کرم اپنے موبائل یا کمپیوٹر کے "Downloads" فولڈر میں جا کر فائل کو کھولیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں