قہار و جبار اسمائے الہیہ ہیں۔ اللہ کی صفات قدیم ہیں محل حوادث نہیں۔ قدم صفات کا منکر کافر ہے


Fatwa No. #83       Jild No # 01

مسئلہ نمبر83

کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین ان مسائل میں کہ: 

 (۱) 

زید کہتے ہیں اللہ عزوجل کا رحمٰن و رحیم نام تو ہے مگر قہر و غضب ( قہار و جبار ) اس کا صفات ذات سے نام نہیں اس لئے یہ کہنا روا ہے کہ اللہ جل مجدہ ازلی رحمٰن و رحیم ہے مگر یہ کہنا مطلقا جائز نہیں کہ اللہ جل مجدہ ازل سے ہی غضب و قہر سے متصف ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وجود و ظہور میں فرق ہے وجود کو ظہور مستلزم نہیں پس ظہور رحمت کیلئے مرحوم کا ثابت ہونا لازم اسی طرح ظہور قہر کے لئے مقہور اور اللہ عزوجل کی کوئی صفت حادث نہیں بلکہ قدیم اور واجب ہیں تو یہ کہنا کیوں کر ناجائز ہوگا۔ 

(۲)

 اس شعر کا مطلب کیا ہے اور اس میں شرعا کوئی خرابی ہے یا نہیں؟

 ز آنروی که چشم تست احول منبع نور پیر تست اول

 بینوا توجروا۔

المستفتی: عبد الوهاب خان القادری الرضوی غفرلہ مولا چوک لاڑکانہ


بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الجوابـ (۱) 

تمہار و جبار اللہ تعالیٰ کے اسماء صفاتیہ ہیں اور دونوں قرآن مجید فرقان حمید میں وارد ہیں قال تعالیٰ:

هو اللّه الذي لا اله الا هو الملك القدّوس السّلام المؤمِن المُهَيمِنُ العزيزُ الجبار المتكبر - الآيه

سوره حشر آیت ۲۳

وقال تعالى:

"لمن الملك اليوم لله الواحد القهار"

سورۃ غافر آیت ۱٦

ان ناموں کو اسمائے الہیہ ماننا جاننا ضروریات دین سے ہے جن کا انکار کفر ہے اور جب دونوں خدائے تعالی و سبحانہ کے نام ہیں تو صفت جبروت و قہر اس کے لئے ازلا ابداً ثابت اور انہیں اللہ تعالی کے لئے ثابت جانا ماننا بھی امر ضروری ہے اور عقیدہ اہل سنت ہے اور سوال میں یہ جو تحریر ہوا کہ "قهر و غضب ( قهار و جبار ) اس کا صفات ذات سے نام نہیں" ان دونوں ناموں اور دونوں صفتوں کے انکار کا پہلو رکھتا ہے اور یہ جو کہا کہ: "مگر یہ کہنا مطلقا جائز نہیں کہ اللہ تعالی ازل ہی سے غضب و قہر سے متصف ہے۔

 اولا : عقیدہ اہل سنت پر طعن ہے کہ اہل سنت کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی ہر صفت ازلی ہے نہ کہ حادث کہ وہ محل حوادث نہیں ہے کما صرحوا به جميعا اور یہ کھلی گمراہی بے دینی ہے بلکہ حسب ارشاد امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کفر ہے۔ فقہ اکبر میں ہے:

صفاته تعالى في الازل غير محدثة ولا مخلوقة فمن قال انها مخلوقة أو محدثة او وقف فيها او شك فيها فهو كافر بالله تعالى

شرح فقه اكبر ص ۲۹ ، مکتبه تهانوی دیوبند

ثالثا: اس کے بقول لازم کہ رحمٰن و رحیم و روف و غفور وغیرھا اسمائے صفاتیہ کا اطلاق بھی خدا پر نہ ہو کہ یہاں بھی بعینہ اس کی یہ تقریر جاری کہ یہ کہنا مطلقا جائز نہیں کہ اللہ تعالی ازل ہی سے ان صفتوں سے متصف ہے تو جس وجہ سے وہ قہار وجبار ناموں کا انکار کرتا ہے وہی سب اسماء صفاتیہ کے انکار کی وجہ ٹھہرے گی۔ ولا حول ولاقوة الا باللہ الی العظیم زید پر تو بہ فرض ہے اور تجدید ایمان بھی کرے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے اور سائل نے جو جواباً فرمایا وہ حق وصحیح ہے۔

 (۲) 

اور اس شعر کا مطلب فقیر کو ظاہر نہ ہوا۔

والله تعالى أعلم
کتبــــــه:

فقیر محمد اختر رضا خان از هری قادری غفر له

[فتاویٰ تاج الشریعہ ، ج: ۱، ص:۲۳۸، مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی]

نوٹـ: فائل ڈاؤنلوڈ ہونے کے بعد بعض اوقات براہِ راست نہیں کھلتی ہے ۔ اگر ایسا ہو توبراہِ کرم اپنے موبائل یا کمپیوٹر کے "Downloads" فولڈر میں جا کر فائل کو کھولیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں