Fatwa No. #77 Jild No # 01
مسئلہ نمبر77
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک ٹیچر ہیں جو میرے ساتھ پڑھاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ قرآن مجید ایشور کا کلام نہیں ہو سکتا اور ستارتھ پرکاش ( دیانند جی کی کتب) سے مندرجہ ذیل دو اعتراض دکھائے جن کا میں تسلی بخش جواب نہیں دے سکا۔ ان کا صیح جواب عنایت فرماویں تا کہ میں ان کو مطمئن کر سکوں ۔ اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ترجمہ و حاشیہ بھی پڑھا، کوئی جواب اس سے بھی سمجھ میں نہیں آیا۔
(1)
قرآن مجید میں جگہ جگہ ہے کافروں کو سزائے جہنم ہے۔ دوسری جگہ ہے کہ ہم نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر کر دی ہے، تو اس میں کافروں کا کیا قصور ہے؟ ایشور ظالم ٹھہرتا ہے؟
(۲)
جنگ بدر کے قصہ میں دوسرے پارے میں ہے کہ ہر ایک گروہ کو دوسرے کی تعداد دوگنی دکھائی دی اور دسویں پارے میں ہے کہ ہر ایک کو دوسرے کی تعداد کم دکھائی دی، کیا ایسا متعارض کلام خدا کا ہوسکتا ہے، یہ بناوٹی کتاب ہے۔
المستفتی: احقر محمد عثمان کالا ڈھونگی
الجوابـ (1)
یہ آپ کے ٹیچر صاحب کا خبط ہے کہ خدائے قدوس کو ظالم گردان رہے ہیں، خدا ظلم سے اور ہر عیب، ہر نقص سے پاک ہے، وہ سب کا مالک ہے اور سب اس کی ملک ، تو اس کا ظالم ہونا ہرگز متصور نہیں کہ ظالم تو وہ ہوتا ہے جو دوسرے کی ملک میں بے اجازت مالکانہ تصرف کرے اور یہیں سے یہ سوال کہ وہ عذاب کیوں فرماتا ہے، منقطع، کہ جب وہ کل کا مالک ہے تو وہ جس طرح چاہے اپنی ملک میں تصرف فرمائے ، اس پر اعتراض نہیں اور بندوں پر ان کی گمراہی وبے دینی کے سبب اعتراض ہے، اور بندے مجبوری محض کا عذر نہیں کر سکتے کہ ہر انسان خود اپنے اور پتھر کے درمیان فرق ظاہر محسوس کرتا ہے تو قطعا یہ سمجھتا ہے کہ خدائے برتر نے مجھے ایک گونہ اختیار عطا فرمایا ہے جو پتھر وغیرہ مخلوقات کو نہ دیا اور اسی اختیار کو تمام حکام دنیا مجرم کی دنیوی سزا کا موجب جانتے ہیں حالانکہ تمام اہل ادیان یہ بھی مانتے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ ہوا، ہو رہا ہے اور جو ہوگا سب ازل میں مقدر ہے اور اس کے خلاف نہیں ہو سکتا باجود اس کے کوئی شخص احکام دنیا میں کسی مجرم کو مجبور نہیں سجھتا بلکہ سزا کا مستحق جانتا ہے تو وہی اختیار مدار کار ہے و لہذا نا سمجھ، بچے، پاگل جانور کو سزا نہیں دیتے۔ بلا تشبیہ اسی اختیار پر خدا نے جزا و سزا کو آخرت میں رکھتا ہے اور جو خدا پر معترض ہے اس نے قضا کو بھی نہ جانا ، خدا کے کلام کو کیا پہچانے گا؟
واللہ تعالی اعلم۔
(۲)
تعداد کا کم دکھائی دینا جنگ سے پہلے تھا تاکہ ایک دوسرے پر دونوں فریق جری ہوں اور تعداد کا زیادہ دکھائی دینا دوران جنگ تھا تو تعارض نہیں اور یہ بات خود آل عمران کی آیت کریمہ سے ظاہر ہے، چنانچہ ارشاد ہے:
قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأُخْرَى كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُم مِّثْلَيْهِمْ رَأَى الْعَيْنِ وَاللهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَنْ يَشَاءُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَبْصَارِ
آل عمران : ۱۳
یعنی بے شک تمہارے لئے نشانی تھی دو گروہوں میں جو آپس میں بھڑ پڑے، ایک جتھا اللہ کی راہ میں لڑتا اور دوسرا کافر کہ انہیں آنکھوں دیکھا اپنے سے دونا سمجھا اور اللہ اپنی مدد سے زور دیتا ہے جسے چاہتا ہے، بے شک اس میں عقلمندوں کے لئے ضرور دیکھ کر سیکھنا ہے۔
والله تعالى أعلمکتبــــــه:
فقیر محمد اختر رضا خان از هری قادری غفر له
[فتاویٰ تاج الشریعہ ، ج: ۱، ص:۲٤٩،٢٥٠، مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی]
نوٹـ: فائل ڈاؤنلوڈ ہونے کے بعد بعض اوقات براہِ راست نہیں کھلتی ہے ۔ اگر ایسا ہو توبراہِ کرم اپنے موبائل یا کمپیوٹر کے "Downloads" فولڈر میں جا کر فائل کو کھولیں۔
