Fatwa No. #79 Jild No # 01
مسئلہ نمبر79
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص امامت کرتا ہے اور میلاد بھی پڑھتا ہے نکاح بھی پڑھاتا ہے اور مقدمہ بھی لڑتا ہے اور برابر لڑ رہا ہے وعظ بھی بیان کرتا ہے بروز عید عید گاہ میں قبل نماز دوگانہ اپنی تقریر میں اس نے مجمع کے سامنے بیان کیا کہ اللہ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا اے محبوب ہم نے تمہارے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیئے ایسے شخص کے لیے شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے۔
جواب مرحمت فرمائیں ۔ فقط
المستفتی: سید محمد ارشاد علی رضوی، پیش امام گردھر پور
الجوابـ فی الواقع اگر شخص مذکور نے یہ جملہ از خود کہا، کسی حدیث یا آیت کے ترجمہ میں جو اللہ و رسول سے حکایت کے طور پر ہو، نہ کہا تو وہ بہت سخت حکم کا مستوجب ہے۔ اسے احتیاطا چاہیے کہ توبہ و تجدید ایمان اور اگر بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔ اور اسلم واحوط ترجمہ آيت كريمہ يغفر لك الله، الآية كا يہ ہے "کہ تمہارے سبب سے اللہ بخش دے "کما في الترجمة الرضوية -
والله تعالى أعلمکتبــــــه:
فقیر محمد اختر رضا خان از هری قادری غفر له
[فتاویٰ تاج الشریعہ ، ج: ۱، ص:۲۵۲،٢٥٠، مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی]
نوٹـ: فائل ڈاؤنلوڈ ہونے کے بعد بعض اوقات براہِ راست نہیں کھلتی ہے ۔ اگر ایسا ہو توبراہِ کرم اپنے موبائل یا کمپیوٹر کے "Downloads" فولڈر میں جا کر فائل کو کھولیں۔
