خدا مثل "الله" ذات باری تعالی کا خاص نام ہے جس کا اطلاق غیر خدا پر کفر ہے


Fatwa No. #62       Jild No # 01

مسئلہ نمبر62

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید کہتا ہے کہ "رام اور خدا میں کوئی فرق نہیں" بکر نے کہا تم پر تجدید ایمان و نکاح و بیعت لازم ہے۔ عمرو نے جب یہ بات سنی تو کہا کہ "رام خدا کو بھی کہا جاتا ہے اور لچھمن کے بھائی کو بھی اور تم زید تہمت لگاتے ہو تو میں رام ہی کہوں گا دیکھتا ہوں میرا کون کیا کرے گا"۔ خالد جو کہ مولوی ہے جب اس سے یہ بات پوچھی گئی تو اس نے کہا کہ "قصداً نہیں کہہ سکتا، سمجھانے کے بطور کہہ سکتے ہیں"۔ لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید ، بکر، عمرو وخالد کے اوپر احکام شرع کیا نافذ ہوتے ہیں؟ مدلل و مفصل جواب ہے رمائیں۔

المستفتی: انوار احمد مقام ڈھیرم، پیلی بھیت


بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الجوابـ خدا مثل " الله" ذات باری تعالیٰ کا خاص نام ہے جس کا اطلاق غیر ذات خدائے برتر وقدوس پر کفر ہے۔ عالمگیریہ میں ہے:

ولو قال من خدايم على وجه المزاح یعنی خود آیم فقد كفر كذا في التتارخانيه

فتاوی هندیه ، جلد دوم کتاب السير باب موجبات الكفر انواع ٣ ص ، ٢٧٤ ، مطبع دار الفكر بیروت

لہذا "رام اور خدا میں کوئی فرق نہیں ہے", کفر در کفر کہ غیر خدا کو خدا کہنا جاننا ماننا ہے اور عمرو کا اس کفر صریح کی تائید میں یہ کہنا کہ "رام خدا کو بھی کہا جاتا ہے"، سفید جھوٹ ہے کوئی مسلمان خدا کو رام نہیں کہتا اور غیر مسلم اپنے زعم باطل پر جسے رام کہتے ہیں اور اسے پوجتے ہیں وہ ہرگز خدا نہیں ہے نہ ان زعم باطل اور قول باطل کا کوئی اعتبار اور جب کوئی مسلم خدا کو رام نہیں کہتا تو عمرو کا یہ قول کہ "رام خدا کو بھی کہا جاتا ہے" ، صریح بہتان ہے جبکہ اس قول کی نسبت مسلمانوں کی طرف کرے اور اگر یہ مراد ہے کہ غیر مسلم خدا کو رام کہتے ہیں تو یہ بھی سفید جھوٹ ہونے کے علاوہ کفار کے قول سے استناد اور حجت لانا اور یہ نرے جھوٹ سے بھی زیادہ سخت ہے کہ کفار کے فعل وقول کا استحسان ہی کفر ہے کما فی غمز العیون والہندیہ وغیر ہا۔ (فتاوى هنديه كتاب السير باب موجبات الكفر انواع، ج ۲، ص ۲۸۷ ، دار الفکر، بیروت) تو اس سے استناد بدرجۂ اولی کفر ہے پھر جس طرح خدا کا اطلاق غیر خدا پر کفر ہے اور وجہ وہی کہ خدا اللہ تعالیٰ کا خاص نام ہے یونہی کسی ایسے لفظ کا اطلاق ( جو غیر خدا کے لئے خاص ہو ) خدا پر بداہدۃً کفر ہے۔ مثلاً زید و عمرو کہ بندگان خدا کے لئے خاص ہیں اگر کوئی خدا کو زید و عمرو کہے، ضرور اس پر حکم کفر ہوگا تو بدرجۂ اولی رام کو خدا کہے یا خدا کو رام کہے بہر حال کفر ہے اور عمرو اپنی ہٹ سے زید کی طرح کافر بے دین ہے ان دونوں پر تجدید ایمان وغیرہ فرض ہے اور خالد کا بھی وہی حکم ہے "لان الرضا بالكفر كفر"

والله تعالى أعلم
کتبــــــه:

فقیر محمد اختر رضا خان از هری قادری غفر له

[فتاویٰ تاج الشریعہ ، ج: ۱، ص:۲۳۰، مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی]

نوٹـ: فائل ڈاؤنلوڈ ہونے کے بعد بعض اوقات براہِ راست نہیں کھلتی ہے ۔ اگر ایسا ہو توبراہِ کرم اپنے موبائل یا کمپیوٹر کے "Downloads" فولڈر میں جا کر فائل کو کھولیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں